7 اکتوبر 2026 - 22:24
طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ؛ طوفان کا لمحہ - 1

جس دن طوفان الاقصیٰ آپریشن کا ڈھول بجایا گیا، صہیونی رجیم کے استکباری جسم پر ایک ایسا زخم لگا جسے شہید رہبر نے ناقابلِ ترمیم قرار دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "ہم طوفان الاقصیٰ آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔" یہ شہید محمد ضیف، القسام بریگیڈز کے کمانڈر ان چیف کی بہادر آواز تھی جو 7 اکتوبر 2023 کو طلوعِ آفتاب سے کچھ گھنٹے پہلے غزہ میں گونج اٹھی۔

"کتائب القسام" کی قوتیں نہ صرف جسمانی سرحدوں بلکہ الیکٹرانک سرحدوں کو بھی پار کر گئیں، اور زمینی، فضائی (پیراگلائیڈر) اور زیرِ زمین حملوں کے امتزاج سے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوئیں اور غاصب صہیونی رجیم کے گماشتوں کے دلوں پر ایسی دہشت طاری کر دی جس کی پہلے کوئی مثال نہ تھی۔ آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں 5000 راکٹوں کی لانچنگ اُس برفانی پہاڑ کی صرف ایک نوک تھی جو مقبوضہ علاقوں کی طرف بڑھ رہی تھی تاکہ صہیونیوں کی کھوکھلی ہیبت کو چکنا چور کر دے۔

تین سرخ لکیریں جو ایک ایک کر کے پامال کی گئی تھیں

شہید محمد ضیف نے اس کاروائی کی وجوہات اُن سرخ لکیروں کی حفاظت بتائی جو ایک ایک کر کے پامال کی جا رہی تھیں:

مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی کی جاتی رہی:

مسجد الاقصیٰ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا مقام معراج ہے جس کی بے حرمتی کی جاتی رہی اور اس میں اعتکاف کرنے والی خواتین پر حملہ کیا گیا ، جس کی وجہ سے مقاومت کے پاس صبر کی وجہ باقی نہیں رہی تھی۔ حماس کے اُس وقت کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ، شہید اسماعیل ہنیہ نے ان حملوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا: "یہ وہ جنگ ہے جو بیت المقدس، ہماری سرزمین، ہمارے عوام اور صہیونی غاصبوں کے عقوبت خانوں میں ہمارے اسیروں کی آزادی کا آغاز کرتی ہے۔ ہم نے اُنہیں اور پوری دنیا کو خبردار کیا تھا کہ بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر ہم خاموش نہیں رہیں گے، چاہے سب خاموش رہیں۔"

فلسطینیوں کو منظم انداز سے قتل اور زخمی کیا جاتا رہا تھا:

معرکۂ طوفان الاقصیٰ سے پہلے کے مہینوں میں سینکڑوں فلسطینی غاصب ریاست کے گماشتوں کے روزمرہ جرائم کے نتیجے میں شہید ہو چکے تھے اور صہیونی رجیم نے پچھلی کسی بھی وارننگ کو اہمیت نہ دی تھی۔ آپریشن کے مرکزی نکات میں سے ایک فلسطینی اسیروں کی آزادی تھی۔ حماس نے بار بار زور دیا تھا کہ اسیر اور اُن کی آزادی اس تحریک کی اخلاقی، شرعی اور انسانی ذمہ داری ہے اور وہ اس ذمہ داری سے ہرگز پہلو تہی اور کوتاہی نہیں کرے گی۔

سفارتکاری کے تمام راستے بند کئے جا چکے تھے:

جب نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت نے قیدیوں کے تبادلے کی انسانی تجاویز کو مسترد کیا اور مغربی کنارے میں وحشیانہ جبر کو عروج پر پہنچایا، تو "طوفان" [الاقصیٰ] کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha